اقوام متحدہ کے سربراہ انتو نیو غطریس نے ایک بیان میں کہا کہ ترک وطن بحران نہیں، بحران دنیا کی اجتماعی ناکامی ہے کہ اس کو مل کر منظم کریں، غطریس نے انسانی اسمگلنگ کے ہزاروں متاثرین کے پیش نظر۶؍ نکاتی منصوبہ پیش کیا۔
EPAPER
Updated: May 07, 2026, 10:13 PM IST | New York
اقوام متحدہ کے سربراہ انتو نیو غطریس نے ایک بیان میں کہا کہ ترک وطن بحران نہیں، بحران دنیا کی اجتماعی ناکامی ہے کہ اس کو مل کر منظم کریں، غطریس نے انسانی اسمگلنگ کے ہزاروں متاثرین کے پیش نظر۶؍ نکاتی منصوبہ پیش کیا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو غطریس نے جمعرات کو عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ عالمی تارکین وطن کے حوالے سے خوف اور غلط معلومات کو مسترد کرے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی نقل مکانی ایک تاریخی حقیقت ہے، کوئی موروثی تباہی نہیں۔ غطریس نے انٹرنیشنل مائیگریشن ریویو فورم۲۰۲۶ء سے کہا، ترک وطن بحران نہیں ہے۔ بحران یہ ہے کہ دنیا اجتماعی طور پر اس کو منظم کرنے میں ناکام رہی ہے۔بعد ازاں انہوں نے تارکین وطن کو سیاسی طور پر طعنہ دینے اور ان کی بے حرمتی کرنے پر تنقید کی، اور بتایا کہ دو سالوں میں سفری راستوں پر۱۵۰۰۰؍ سے زیادہ افراد ہلاک یا لاپتہ ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ای یو کے سابق عہدیداروں کا مغربی کنارے کےغیر قانونی منصوبے پر پابندی کا مطالبہ
علاوہ ازیںسیکرٹری جنرل نے انسانی المیے سے نمٹنے کے لیے چھ نکاتی حکمت عملی تجویز کی، جس میں پچھلے چار سالوں میں انسانی سمگلنگ کے۲؍ لاکھ متاثرین کی نشاندہی کی گئی ہے۔ انہوں نے انسانی اسمگلروں کے خلاف منشیات کے خلاف جنگ جیسی کارروائی کا مطالبہ کیا اور رکن ممالک سے کہا کہ وہ `ان کے مالی وسائل بند کرکے مجرمانہ نیٹ ورک ختم کریں۔
یہ بھی پڑھئے:ایران -امریکہ امن معاہدہ کی قوی اُمید
اقوام متحدہ کے سربراہ نے اصرار کیا کہ انسانی حقوق مرکزی حیثیت رکھتے ہیں، چاہے کسی فرد کی قانونی حیثیت کچھ بھی ہو۔ انہوں نے خاص طور پر خاندانوں اور بچوں کی حراست ختم کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ `استحصال روکنے اور لیبر مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے قانونی راستوں کو بڑھانے پر زور دیا۔غطریس نے متاثر ممالک میں تعلیم اور معاشی مواقع میں سرمایہ کاری پر بھی زور دیا تاکہ خطرناک سفر کا دباؤ کم ہو۔ انہوں نے شراکت داروں سے مائیگریشن ملٹی پارٹنر ٹرسٹ فنڈ کی حمایت کرنے کی اپیل کی، جس نے۲۰۱۹ء سے اب تک۶۸؍ ملین ڈالر اکٹھے کیے ہیں۔